نماز کے دوران وقفہ دو طرح کا ہو سکتا ہے:
(الف) اختیاری وقفہ (بغیر عذر): اگر کوئی شخص بغیر کسی مجبوری کے نماز کے درمیان رک جائے، تو یہ عمل مکروہ ہے۔ فقہا کے مطابق اگر یہ وقفہ اتنا طویل ہو کہ دو رکعت کے برابر وقت لگ جائے، تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اگر وقفہ کم ہو تو نماز صحیح رہے گی مگر یہ خلافِ ادب اور مکروہ ہے۔
(ب) اضطراری وقفہ (عذر کی بنا پر): اگر نمازی کو ایسی اضطراری صورت حال پیش آ جائے جس کے بغیر حل ممکن نہ ہو، تو وقفہ کرنا جائز بلکہ واجب ہو جاتا ہے۔ مثلاً: waqfa baraye namaz in urdu written full
اگر امام نماز میں کسی رکن کو چھوڑ دے یا غلطی کرے، تو مقتدیوں کو لب زبانیکہنا جائز نہیں (یعنی بولنا جائز نہیں)، لیکن وہ اشارے سے اس کی توجہ دلانا جائز ہے۔
تعارف: نماز دین اسلام کا ستون اور مومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز کے دوران بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس لیے شرع میں نماز میں خلل ڈالنے والی چیزوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم، کچھ مخصوص صورتحال میں نماز کے دوران وقفہ (Waqfa) کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس وقفے کی شرعی حیثیت، اس کی حدود اور آداب کیا ہیں؟ اس کا تفصیلی جائزہ پیش ہے۔ نماز کے دوران وقفہ دو طرح کا ہو
اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ اَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَّلِيُّ اللّٰهِ حَيَّ عَلَی الصَّلٰوةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَيَّ عَلٰی خَيْرِ الْعَمَلِ اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
اگر نماز کے دوران کسی کی جان یا عزت کو خطرہ لاحق ہو، تو نماز توڑنا یا وقفہ کرنا جائز ہے۔ اگر نماز کے دوران کسی کی جان یا
نبی کریم ﷺ نے تین اوقات میں کسی بھی نفل نماز اور جنازے کی نماز سے منع فرمایا ہے۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں:
ان اوقات میں فرض نماز بھی نہیں پڑھی جاسکتی (اس کی قضاء یا صرف اس وقت کا خاص واجب الادا فرض)۔